صنعتی ترقی سے
G5
تک
صنعتی انقلاب انقلاب انگلستان سے 1780 میں شروع ھوتا ھے اور 1840 تک دنیا کو باآاسانی اپنی لپیٹ میں لیتا ھوا اپنے دوسرے دور میں پہنچتا ہے جس کا آغاز 1870 میں ھوتا ھے اور 1920 تک دنیا کے ترقی پذیر ممالک تک اپنی جڑیں مضبوط کرتا ھے۔ 1600-1740 کا عرصہ اقتصادی زرعی انقلاب کا دور رھا۔ اور دنیا کے ممالک نے جہاں ان انقلابات سے فائدہ اٹھایا وھاں نقصان کا زکر نہ کرنا انسانیت اور قدرت کے ساتھ ناانصافی کے ذمرے میں آتا ھے۔ جب ھندوستان میں انگلستاں سرکار تقسیم کے منصوبہ کو آگے بڑھا رھی تھی اور دنیا دوسری جنگ عظیم کی آگ میں جل رھی تھی اس وقت سائنسی انقلاب بھی سر اٹھا رھا تھا۔ 1940 سے 1970 کے دور میں جب اقوام متحدہ کا ڈھانچہ ترتیب دیا جا رھا تھا اس وقت سائنس و ٹیکنالوجی کا انقلاب یورپ اور امریکہ دیکھ رھے تھے۔ 1600 سے لے 1970 تک کے انقلابات دنیا کو ترقی کی طرف لے جارھے تھے تو دوسری طرف قدرت بھی انتقام لے رھی تھی۔
1931 میں چین کا سیلاب جس میں چالیس لاکھ اموات ھوئیں اور 1970 کا مشرقی پاکستان میں آنے والا بھولا سائیکلوں قابل ذکر ہیں اس ھی طرح ئیٹی پرتگال اور براعظم افریقہ قدرت کے انتقام کی تاریخ سے بھرے پڑے ہیں۔ 1975 سے انفارمیشن کمیونیکیشن کا انقلاب آج 2020 میں داخل ھو چکا ھے۔ صنعتی ترقی کی قدرتی تباہ کاریوں کے خلاف 1970 میں ایک تحریک کا آغاز ھوتا ھے اور اقوام متحدہ نے پریتھوئی دن ہر سال مناننے کا آعلان کیا جس کا مقصد عوام میں اس سیارے کے بچاو بارے آگاھی دینا مقصود تھا۔ اس دوران دنیا میں قانون اور پالیسی سازی کا آغاز ھوتا ھے کہ کسطرح بڑھتی ھوئی آبادی اور ماحولیاتی بگاڑ کو روکا جائے۔ 1970 میں دنیا کی آبادی 3۰7 فیصد تھی جس کا 65 فیصد حصہ دیہی علاقوں میں آباد تھا لیکن 1995 میں دنیا کی آبادی 5۰7 فیصد ھو گئی اور 55 فیصد لوگوں نے شھروں کا رخ کیا۔ جس کی وجہ سے توانائی اور ٹریفک کا بے ھنگم سیلاب امڈا اور ماحولیاتی بگاڑ میں اضافے کا سبب بنا۔ انسانی بنیادی ضروریآت میں اضآفے نے نت نئے طریقے اپنآنے پر انسان کؤ مجبؤر کیا جس کی وجہ سے دنیا میں وبائی امرآض میں خاطر خواہ آضافہ ھوا۔ حالانکہ میڈیکل سائنس نے چیچک اور خناق جیسی بیماریوں کو شکست دے دی تھی لیکن آلودہ پانی مصنوعی کھادوں سے تیار اناج وغیرہ نے انسان کو کالا یرقان ذیباطیس اور دل کے عارضوں میں مبتلآ کیآ۔
آج 2020 ھے اور دنیا کرونا وائرس کی وباء کے آگے بے بس نظر آ رہی ہے۔ عوام کو گھروں میں بند کر دیا گیا اور میل جول نہ کرنے کی ترغیب دی جارہی ھے۔ یہ ہی سماجی تعلقات کچھ ماہ پہلے انسان کو سیکھائے جاتے تھے تاکہ سمآجی تعلقات کو استوار کرتے ھوئے شرکتی ترقی کی طرف بڑھا جائے۔ دنیا کے 61۰51 فیصد لوگ آج سمارٹ فون کا آستعمال یہ سوچ کے کر رھے ہیں کہ کمیونیکیشن ان کی ترقی کا ایک اہم جز ھے۔ بینک مائی سیل ویب سائٹ کے مطابق 3۰50 بلین اسمارٹ فون کے صارف اس وقت دنیا میں موجود ھیں۔ اس کمیونیکیشن کے انقلابی دور میں انسان صنعتی انقلاب سے زیادہ خطرے میں ھے۔ موبائل کمپنیوں کے ٹاور دنیا میں electromagnetic waves پھیلانے کا سبب بن رھیں جو کہ انسان حیوان کے لیے انتہائی نقصان دہ ھے۔ ہم ہر وقت ان waves کے درمیاں جی رھے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہم آج دنیا کے ساتھ رابطوں میں ہیں اور ان رابطوں کے فوائد کم و بیش ویسے ہی ہیں جیسے صنعتی انقلاب کے ادوار میں تھے لیکن ان کے نقصانات بالواسطہ انسان کی صحت پر ھو رھے ہیں۔ خاص کر بچوں کے اندر چڑچڑا پن violence سیکھنی کی صلاحیت سونے کی کمی دماغی امراض بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کینسر رویہ کی خرابی وغیرہ جیسے امراض ان electromagnetic waves کی وجہ سے ہیں۔ 1780 میں صنعتی انقلاب شروع ھوتا ھے اورغ1970 میں دنیا کے پالیسی ساز اداروں کو ادراک ھوتا ھے کہ ماحولیات بگاڑ انسآنی صحت کے لیے نقصانات کا باعث ھے اور دنیا میں قدرتی آفات کی وجہ بھی۔ اب دنیا کو کب ادارک ھو گا کہ G4 and G 5 ٹیکنالوجی کے نقصانات انسانی اموات کی شکل میں صنعتی انقلاب سے کہیں زیادہ ہوں گئی۔ دنیا کے شعور رکھنے والے ممالک کی عوام نے اس ٹیکنالوجی کی سیاہی کو اجاگر کرنا شروع کر دیا ھے اور ان ممالک میں انسانی حقوق کی آوازوں کی شنوائی بھی ھے اور عوامی نمائندے قاںونی سآزی بھی کرتے ہیں جس سے صارف کے حقوق کا دفاع ھو اس کا موازنہ اس بآت سے کیا جا سکتآ ھے کہ 1970 میں ماحولیاتی تحفظ کا آغاز ھوتآ ھے اور ترقی پزیر ممالک میں آس کی شروعات دو دھآئی پہلے ھوتیں ھییں آج ترقی پزیر ریاستوں کو جلد از جلد قانونی سازی کر کے عوام کو G 5 کی تباہ کاریوں سے بچانآ ھو گا۔ متعلقہ ریاستی ادارے اس سلسلے میں اپنی پالیسیوں کو واضع کریں۔ ایک عوامی سطح کی کمپین چلائیں جس کا مقصد electromagnetic waves کے نقصانات کے بارے میں آگاھی دینا ھو۔ اس آمر کی ضرورت کرونا کے بعد اور بڑھ جائے گئی کیونکہ کرونا نے لوگوں کو کمائی کے ڈیجٹل چینلز کے طرف متوجہ کر دیا ھے۔ امریکہ اور یورپ کی بڑی نامور یونیورسٹیز نے مفت کورسز متعارف کروا دے ہیں۔ تآکہ لوگ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کر کے سمآجی فاصلے رکھتے ھوئے نان نفقہ کما سکیں۔ اس اقدام سے فری لآنسنگ کا گراف بڑھے گا جس کے فوائد کہ ساتھ نقصانآت کآ خمیازہ بھی عوآم کو بھگتنا پڑے گا۔ چھوٹے بچوں میں آسمآرٹ فون کااستعمال تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ھے۔ جو کہ بچوں میں سیکھنے کی صلاحیتوں کو منہدم کر رھآ ھے۔
ان electromagnetic waves
سے بچاو کے لیے یورپ اور امریکہ کے عوام گھروں کو farady cage کے ذریعے محفوظ بنا رھے ہیں گھروں میں اسمارٹ فون کو ممنوع قرار دیا جا رھا ھے اور موبائل ٹاور سے آنے والی electromagnetic waves
farady cage کے زریعے روکا جا رھا ھے۔
آج 2020 ھے اور دنیا کرونا وائرس کی وباء کے آگے بے بس نظر آ رہی ہے۔ عوام کو گھروں میں بند کر دیا گیا اور میل جول نہ کرنے کی ترغیب دی جارہی ھے۔ یہ ہی سماجی تعلقات کچھ ماہ پہلے انسان کو سیکھائے جاتے تھے تاکہ سمآجی تعلقات کو استوار کرتے ھوئے شرکتی ترقی کی طرف بڑھا جائے۔ دنیا کے 61۰51 فیصد لوگ آج سمارٹ فون کا آستعمال یہ سوچ کے کر رھے ہیں کہ کمیونیکیشن ان کی ترقی کا ایک اہم جز ھے۔ بینک مائی سیل ویب سائٹ کے مطابق 3۰50 بلین اسمارٹ فون کے صارف اس وقت دنیا میں موجود ھیں۔ اس کمیونیکیشن کے انقلابی دور میں انسان صنعتی انقلاب سے زیادہ خطرے میں ھے۔ موبائل کمپنیوں کے ٹاور دنیا میں electromagnetic waves پھیلانے کا سبب بن رھیں جو کہ انسان حیوان کے لیے انتہائی نقصان دہ ھے۔ ہم ہر وقت ان waves کے درمیاں جی رھے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہم آج دنیا کے ساتھ رابطوں میں ہیں اور ان رابطوں کے فوائد کم و بیش ویسے ہی ہیں جیسے صنعتی انقلاب کے ادوار میں تھے لیکن ان کے نقصانات بالواسطہ انسان کی صحت پر ھو رھے ہیں۔ خاص کر بچوں کے اندر چڑچڑا پن violence سیکھنی کی صلاحیت سونے کی کمی دماغی امراض بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کینسر رویہ کی خرابی وغیرہ جیسے امراض ان electromagnetic waves کی وجہ سے ہیں۔ 1780 میں صنعتی انقلاب شروع ھوتا ھے اورغ1970 میں دنیا کے پالیسی ساز اداروں کو ادراک ھوتا ھے کہ ماحولیات بگاڑ انسآنی صحت کے لیے نقصانات کا باعث ھے اور دنیا میں قدرتی آفات کی وجہ بھی۔ اب دنیا کو کب ادارک ھو گا کہ G4 and G 5 ٹیکنالوجی کے نقصانات انسانی اموات کی شکل میں صنعتی انقلاب سے کہیں زیادہ ہوں گئی۔ دنیا کے شعور رکھنے والے ممالک کی عوام نے اس ٹیکنالوجی کی سیاہی کو اجاگر کرنا شروع کر دیا ھے اور ان ممالک میں انسانی حقوق کی آوازوں کی شنوائی بھی ھے اور عوامی نمائندے قاںونی سآزی بھی کرتے ہیں جس سے صارف کے حقوق کا دفاع ھو اس کا موازنہ اس بآت سے کیا جا سکتآ ھے کہ 1970 میں ماحولیاتی تحفظ کا آغاز ھوتآ ھے اور ترقی پزیر ممالک میں آس کی شروعات دو دھآئی پہلے ھوتیں ھییں آج ترقی پزیر ریاستوں کو جلد از جلد قانونی سازی کر کے عوام کو G 5 کی تباہ کاریوں سے بچانآ ھو گا۔ متعلقہ ریاستی ادارے اس سلسلے میں اپنی پالیسیوں کو واضع کریں۔ ایک عوامی سطح کی کمپین چلائیں جس کا مقصد electromagnetic waves کے نقصانات کے بارے میں آگاھی دینا ھو۔ اس آمر کی ضرورت کرونا کے بعد اور بڑھ جائے گئی کیونکہ کرونا نے لوگوں کو کمائی کے ڈیجٹل چینلز کے طرف متوجہ کر دیا ھے۔ امریکہ اور یورپ کی بڑی نامور یونیورسٹیز نے مفت کورسز متعارف کروا دے ہیں۔ تآکہ لوگ اپنی صلاحیتوں کا استعمال کر کے سمآجی فاصلے رکھتے ھوئے نان نفقہ کما سکیں۔ اس اقدام سے فری لآنسنگ کا گراف بڑھے گا جس کے فوائد کہ ساتھ نقصانآت کآ خمیازہ بھی عوآم کو بھگتنا پڑے گا۔ چھوٹے بچوں میں آسمآرٹ فون کااستعمال تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ھے۔ جو کہ بچوں میں سیکھنے کی صلاحیتوں کو منہدم کر رھآ ھے۔
ان electromagnetic waves
سے بچاو کے لیے یورپ اور امریکہ کے عوام گھروں کو farady cage کے ذریعے محفوظ بنا رھے ہیں گھروں میں اسمارٹ فون کو ممنوع قرار دیا جا رھا ھے اور موبائل ٹاور سے آنے والی electromagnetic waves
farady cage کے زریعے روکا جا رھا ھے۔
Comments
Post a Comment