
سوجھی آنکھیں سرخ گال "میں اج بھی کسی بچی کی سوجھی آنکھیں اور سرخ گال دیکھتا ھوں تو جان جاتا ھوں کہ کسی امیر کے گھر کے برتن ٹوٹے ہیں" کرشن چندر صاحب سرمایہ دار جاگیردار کے ھاتھوں کے نشان غریبوں کے گالوں پر شائد ہمیشہ ہی دیکھے تبھی تو لکھ دیا۔ ان نشانوں کی تاریخ انسان کی ارتقاء کے ساتھ جڑی ہوئی ھے۔ جون جون انسان ترقی کرتا گیا ان نشانوں نے بھی ترقی کی ہاں البتہ ترقی پذیر ریاستوں میں موجود سرخ گالوں پر وہی پرانے نشان ملتے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ نشان انسانی ارتقاء کے ساتھ کافی حد تک بدل چکے ہیں- ریاستیں قانوں اور پالیسی سازی کے ذریعے آج کے دور میں غریبوں کے گال سرخ کرتے ہیں۔ حقوق کا پرچار بھی وہیں ھوتا ہے جہاں حقوق غصب کیے جاتے ھوں۔ پرچار نہ ھو اس لیے غریب کے لیے دستیاب شعور کی سیڑھی کو دیمک ذدہ رکھا گیا ھے۔ نہ سوچ پروان چڑھے اور نہ ہی شعور کی بند کھڑکی کھلے۔ قانوں اور پالیسی ساز اداروں میں سرمایہ دار جاگیردار یا ان کے حمایت یافتہ گروہوں کا قبضہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج جتنی بھی آنکھیں سوجھی ھوئی اور سرخ گال نظر آتے ہیں وہ انہی کی مرہونِ منت ہیں۔ بلکہ اب ب...